ابنا: امریکی وزیر خارجہ نے بیجنگ میں ایران کےایٹمی پروگرام کے بارے میں ایران پر دباؤ لانے کے سلسلے میں امریکہ اور چین کے اہداف کو ایک قرار دینے کی کوشش کی تاکہ ایران، بغداد مذاکرات میں اپنے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کوثابت کرے اور اسے اہم قرار دے۔یہ ایسے حالات میں ہے کہ امریکہ نے مذاکرات کے بارے میں رکاوٹیں ڈالنے والی ایسی پالسیاں اختیار کیں کہ جن کے نتیجہ میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جنیوا اور استنبول میں ہونے والے پہلے مذاکرات کسی نتیجہ تک نہیں پہونچے ۔امریکی وزیر خارجہ نے بیجنگ میں کوئی نئی بات نہیں کہی ہے بلکہ وہی غیر منطفی باتیں کی ہیں جنھیں امریکہ ہمیشہ دہراتا رہتا ہے تاکہ ایران ایٹمی انر جی سے استفا دے کے اپنے جائز حقوق سے دستبردار ہوجائے ۔ ہیلری کلنٹن نے اس سے قبل بھی گارڈین اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا امریکہ صرف ایر ان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں عالمی برادری کے درمیان پائی جانے والی تشویش کو دور کرنا چاہتا ہے ۔ انھوں نےایک بار ایران کے پرامن ایٹمی پرورگرام کے بارے میں بے بنیاد دعؤوں کی تکرار کرتے ہوئے مذاکرات کے نتائج کے سلسلے میں شک وتردید کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا مذاکرات کا واضح نتیجہ لینا چاہتا ہے ، امریکہ جانتا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی طرح کا کوئی انحراف نہیں پایا جاتا ہے اور ایران این پی ٹی معاہدے کے مطابق تہران کے ری ایکٹر اور ایٹمی بجلی گھر کےایندھن کی ضرورت کے لئے یورنیم افزودگی کے عمل کو ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے انسپکٹروں کی نگرانی میں انجام دے رہاہے ۔ اس بات کی امریکہ کی سولہ خفیہ ایجنسیوں نے بھی دوبارتصدیق کی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ علاقائی اور عالمی پالیسیوں کے دائرے میں کسی اور ہدف کے چکر میں ہے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ دو مسئلوں کے پیش نظر ایک انتخابات اور دوسرا مغرب میں مالی بحران اور اقتصادی جمود کی وجہ سے ایران اور مشرق وسطی کے سلسلےمیں وہائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کو کامیاب ظاہر کرنےکی کوشش کررہا ہے ، مبصرین کی نظر میں بیجنگ میں کلنٹن کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے میں ناکام ہوچکا ہے ،اسی لئے ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کے خلاف مختلف الزامات لگا کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے ۔چنانچہ امریکہ کئی برسوں سے ایران کے خلاف اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لگا کراوردباؤ ڈال کر دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتا چلا آرہا ہے ۔اس سلسلے میں اس نے مختلف رکا وٹوں خاص طور پر چین اور روس کی طرف سے کی جانے والی مخالفت کے پیش نظر ان دوبڑی طاقتوں کو بھی راضي کرنے کی بہت زیادہ کوشش کی لیکن اس کی تمام تر کوششیں ناکام ہوکر رہ گئيں ۔ دوسری طرف وہائٹ ہاؤس کے حکام ایران کے خلاف ایسے وقت کوشش رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ علی باقری بدھ کو چین گئے اور چینی حکام سے گفتگو کرنے کے بعد ماسکو گئے اور انھوں نے روس کےنائب وزیر خارجہ سرگئ ریابکوف کے ساتھ بغداد میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بات چیت اور گفتگو کی ہے ۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کا استنبول میں انعقاد ہوا اور آپس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ این پی ٹی معاہدے کے مطابق تعاون اور مسائل کے حل کے لئے مذاکرات جاری رہیں ۔بہر جال تجربہ سے پتہ چلتاہے کہ مذاکرات کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں اور ایران کے خلاف شدید دباؤ غلط در عین حال ناکام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے مغرب بھی سخت چیلنجوں سے دوچار ہے۔
.......
/169